سفر در سفر” سے انتخاب از اشفاق احمد

“میں نے انتظار کرنے والوں کو دیکھا.انتظار کرتے کرتے سو جانے والوں کو بھی اور مر جانے والوں کو بھی. میں نے مضطرب نگاہوں اور بے چین بدنوں کودیکھا ہے.آہٹ پے لگے ہوئے کانوں کے زخموں کو دیکھا.انتظار میں کانپتے ہوئے ہاتھوں کو دیکھا . منتظر آدمی کے دو وجود ہوتے ہیں. ایک وہ جو مقررہ جگہ پر انتظار کرتا ہے، دوسرا وہ جو جسد خاکی سے جدا ہو کر پذیرائی کے لئے بہت دور نکل جاتا ہے. جب انتظار کی گھڑیاں دنوں،مہینوں اور سالوں پر پھیل جاتی ہیں تو کبھی کبھی دوسرا وجود واپس نہیں آتا اور انتظار کرنے والے کا وجود،اس خالی ڈبے کی طرح رہ جاتا ہے جسے لوگ خوبصورت سمجھ کر سینت کے رکھ لیتے ہیں او کبھی اپنے آپ سے جدا نہیں کرتے. یہ خالی ڈبا کئی بار بھرتا ہے، قسم قسم کی چیزیں اپنے اندر سمیٹتا ہے، لیکن اس میں “وہ” لوٹ کر نہیں آتا جو پذیرائی کے لئے آگے نکل گیا تھا .ایسے لوگ بڑے مطمین اورپورے طور پہ شانت ہوجاتے ہیں .ان مطمئن، پرسکون اور شانت لوگوں کی پر سنیلٹی میں بڑا چارم ہوتا ہے اور انہیں اپنی باقی ماندہ زندگی اسی چارم کے سہارے گزارنی پڑتی ہے.یہی چارم آپ کو سوفیا کی شخصیتوں میں نظر آے گا.یہی چارم عمر قدیوں کے چہرے پر دکھائی دے گا اور اسی چارم کی جھلک آپکو عمر رسیدہ پروفیسروں کی آنکھوں میں نظر آے گی”.

از اشفاق احمد،
“سفر در سفر” سے انتخاب .

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s